بنگلور،9؍اپریل(ایس او نیوز)بنگلور شہری ضلع انتظامیہ جو زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق تقریباً چھ ہزار سے زیادہ مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے، پچھلے سات ماہ میں صرف آٹھ مقدمات کو غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق خصوصی عدالت میں پیش کر سکا ہے حالانکہ شہری ضلع کا صدر دفتر مذکورہ کورٹ سے صرف کچھ میٹر ہی کے فاصلہ پر واقع ہے۔شہری انتظامیہ کے اس نامناسب رویہ سے ناراض ہو کر خصوصی عدالت نے اب وی بالا سبرامنین کی رپورٹ ’’سبر اور ملی بھگت‘‘،پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عدالت نے خود کے لئے چار ہزار مقدمات کو مکمل کرنے کا ہدف طے کیا ہے اور یہ بھی کہ سرکاری زمینات پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ وی بالا سبرامنین کمیٹی کے مطابق ریاست بھر میں بارہ لاکھ ایکڑ زمینات پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔دس دن قبل خصوصی عدالت نے ریاست بھر کے شہری انتظامیہ حکام کو ہدایت جاری کی تھی کہ زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات کی مکمل فہرشت مع دستاویزات عدالت کو روانہ کئے جائیں اور بنگلور شہری انتظامیہ کے افسران ان لوگوں میں شامل ہے، جنہیں نے عدالت کے حکم نامہ کی تعمیل نہیں کی ہے حالانکہ اس کا دفتر عدالت کے سب سے قریب ہے۔ریاست کے چھ مختلف اضلاع سے رینج فاریسٹ افسران نے متعلقہ دستاوازات کے ساتھ غیر قانونی قبضہ جات کی فہرست عدالت کو روانہ کی ہے۔عدالت نے تمام افسران کو تنبیہ کی ہے کہ صرف نام، پتہ اور غیر قانونی قبضہ کی ہوئی زمین کے رقبہ سے متعلق تفصیلات کافی نہیں ہونگے بلکہ اس سلسلہ میں تمام دستاویزات کا جمع کرنا بھی ضروری ہوگا ورنہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ سرکاری زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات کے خلاف بڑے پیمانہ پر عوامی احتجاجات کے بعد ،خصوصی عدالت کا قیام 31 اگست 2016 کو عمل میں آیا تھا۔زمینات کی ملکیت کے سلسلہ میں اس وقت خصوصی ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں تین ہزار معاملات زیر التواء ہیں جب کہ اتنے ہی مزید معاملات ڈپٹی کمشنر اور معاون کمشنر کی عدالتوں میں بھی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے باوجود ان افسران نے مذکورہ مقدمات کو خصوصی عدالت کے حوالہ نہیں کیا ہے۔زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق مقدمات کی سنوائی کے لئے خصوصی عدالت کندایا بھون یا بنگلور شہری ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی تیسری منزل پر واقع ہے۔دوسری منزل پر شمالی ذیلی ڈویژن اور جنوبیِ ذیلی ڈویژن کے معاون کمشنروں کے دفاتر موجود ہیں جن کے تحت ضلع کے پانچ تعلقہ جات آتے ہیں، اس طرح ایک ہی عمارت میں موجود ہونے کے باوجود ان دفاتر سے غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق مقدمات کو خصوصی عدالت میں روانہ نہیں کیا گیا ہے۔ضلع انتظامیہ کے علاوہ بی بی ایم پی کی طرف سے بھی عدالت کا تعاون نہیں کیا جا رہا ہے۔حالانکہ، بی بی ایم پی کے تحت آنے والے تالاب، برساتی نالے، راستوں، پارکوں اور کھیل کے میدانوں پر کئی مقامات پر غیر قانونی قبضہ جات کئے گئے ہیں اور اس کے باوجود بی بی ایم پی خاموش ہے، خصوصی عدالت نے بی بی ایم پی کو بھی نوٹسیں روانہ کی تھیں مگر کوئی جواب نہیں آیا۔خصوصی عدالت میں اس وقت داخل کردہ مقدمات کی تعداد 348 ہے جبکہ عدالت نے ازخود 243 مقدمات درج کئے ہیں،جو مقدمات عدالت میں درج کئے گئے ہیں ان میں 92 مقدمات نجی شکایات کی بنیاد پر ہیں اور آٹھ مقدمات حکومت کے مختلف شعبہ جات سے عدالت میں منتقل کئے گئے ہیں اور ان تمام مقدمات میں سے اب تک صرف تیرہ مقدمات کی کارروائی مکمل کی گئی ہے اور عدالت نے ان پر اپنے فیصلے صادر کئے ہیں۔